صراحی دار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - صراحی کی شکل کا لمبوترا، صراحی نما۔ "وہ مزید مسرور ہو کر میری گردن چومنے لگتیں جو بقول ان کے صراحی دار تھی۔"      ( ١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ١٣٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صراحی' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی ملنے سے مرکب 'صراحی دار' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٠ء کو "الماس درخشاں" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صراحی کی شکل کا لمبوترا، صراحی نما۔ "وہ مزید مسرور ہو کر میری گردن چومنے لگتیں جو بقول ان کے صراحی دار تھی۔"      ( ١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ١٣٨ )